آفریں خان نے سوشل میڈیا پیج پر لائیو آکر اپنے تمام کپڑے آہستہ آہستہ اتار دیے

آفریں خان نے سوشل میڈیا پیج پر لائیو آکر اپنے تمام کپڑے آہستہ آہستہ اتار دیے
آفریں خان کے سوشل میڈیا پر کافی تعداد میں فولورز ہیں جو انکی ویڈیوز بہت شوق سے دیکھتے ہیں لیکن آفریں خان نے اب بے حیائی کی تمام حدیں پار کرنا شروح کردی ہیں تا کے انکی کی فین فولونگ اور زیادہ بڑھ سکے اور انکو ایک سیلبرٹی جیسا مقام مل سکے ، ویڈیو دیکھ کر اپ خود اندازہ لگائیں کے کیا انکو ایسی حرکتیں زیب دیتی ہیں

آفریں خان نے سوشل میڈیا پیج پر لائیو آکر اپنے تمام کپڑے آہستہ آہستہ اتار دیے
آفریں خان کے سوشل میڈیا پر کافی تعداد میں فولورز ہیں جو انکی ویڈیوز بہت شوق سے دیکھتے ہیں لیکن آفریں خان نے اب بے حیائی کی تمام حدیں پار کرنا شروح کردی ہیں تا کے انکی کی فین فولونگ اور زیادہ بڑھ سکے اور انکو ایک سیلبرٹی جیسا مقام مل سکے ، ویڈیو دیکھ کر اپ خود اندازہ لگائیں کے کیا انکو ایسی حرکتیں زیب دیتی ہیں

اس لڑکی نے سب کے ہوش اڑا دیے ویڈیو دیکھیں

ان لڑکیوں نے ایسی کمال کی ویڈیو بنائی کے سب ہنس ہنس کر پاگل ہوگئے
سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ مقبول ہوتی یہ ویڈیو دیکھیں اور اپنے دوستوں کیساتھ بھی شئیر کریں
ان لڑکیوں نے ایسی کمال کی ویڈیو بنائی کے سب ہنس ہنس کر پاگل ہوگئے
سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ مقبول ہوتی یہ ویڈیو دیکھیں اور اپنے دوستوں کیساتھ بھی شئیر کریں

ان لڑکیوں نے ایسی کمال کی ویڈیو بنائی کے سب ہنس ہنس کر پاگل ہوگئے
سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ مقبول ہوتی یہ ویڈیو دیکھیں اور اپنے دوستوں کیساتھ بھی شئیر کریں

ان لڑکیوں نے ایسی کمال کی ویڈیو بنائی کے سب ہنس ہنس کر پاگل ہوگئے
سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ مقبول ہوتی یہ ویڈیو دیکھیں اور اپنے دوستوں کیساتھ بھی شئیر کریں

ان لڑکیوں نے ایسی کمال کی ویڈیو بنائی کے سب ہنس ہنس کر پاگل ہوگئے
سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ مقبول ہوتی یہ ویڈیو دیکھیں اور اپنے دوستوں کیساتھ بھی شئیر کریں

12 سال مرد مجاھد شھید صدام حسین کی جسد خاکی جب قبر کشائی کے بعد نکالا گیا تو شہادت کے 12 سال بعد بھی شہید صدام حسین کا وہی چہرا اور چہرے پر موجود خون اس کے حقیقی شہادت کے گواھی دے رھے ھیں

12 سال مرد مجاھد شھید صدام حسین کی جسد خاکی جب قبر کشائی کے بعد نکالا گیا تو شہادت کے 12 سال بعد بھی شہید صدام حسین کا وہی چہرا اور چہرے پر موجود خون اس کے حقیقی شہادت کے گواھی دے رھے ھیں

12 سال مرد مجاھد شھید صدام حسین کی جسد خاکی جب قبر کشائی کے بعد نکالا گیا تو شہادت کے 12 سال بعد بھی شہید صدام حسین کا وہی چہرا اور چہرے پر موجود خون اس کے حقیقی شہادت کے گواھی دے رھے ھیں

12 سال مرد مجاھد شھید صدام حسین کی جسد خاکی جب قبر کشائی کے بعد نکالا گیا تو شہادت کے 12 سال بعد بھی شہید صدام حسین کا وہی چہرا اور چہرے پر موجود خون اس کے حقیقی شہادت کے گواھی دے رھے ھیں

12 سال مرد مجاھد شھید صدام حسین کی جسد خاکی جب قبر کشائی کے بعد نکالا گیا تو شہادت کے 12 سال بعد بھی شہید صدام حسین کا وہی چہرا اور چہرے پر موجود خون اس کے حقیقی شہادت کے گواھی دے رھے ھیں

12 سال مرد مجاھد شھید صدام حسین کی جسد خاکی جب قبر کشائی کے بعد نکالا گیا تو شہادت کے 12 سال بعد بھی شہید صدام حسین کا وہی چہرا اور چہرے پر موجود خون اس کے حقیقی شہادت کے گواھی دے رھے ھیں

12 سال مرد مجاھد شھید صدام حسین کی جسد خاکی جب قبر کشائی کے بعد نکالا گیا تو شہادت کے 12 سال بعد بھی شہید صدام حسین کا وہی چہرا اور چہرے پر موجود خون اس کے حقیقی شہادت کے گواھی دے رھے ھیں

عورت کی کچی اور پکی شرمگاہ

عورت کی کچی اور پکی شرمگاہ عورت کی کچی اور پکی شرمگاہ…………….عورت کی کچی اور پکی شرمگاہ……..عورت کی کچی اور پکی شرمگاہ عورت کی کچی اور پکی شرمگاہ…………….عورت کی کچی اور پکی شرمگاہ

عورت کی کچی اور پکی شرمگاہ میں کیا فرق ہوتا ہے؟ کچی اور پکی شرمگاہ والی عورتیں کونسی ہوتی ہیں؟ جس طرح مردوں میں مختلف قسم کے عضو تناسل پائے جاتے ہیں ٹھیک اسی طرح عورتوں میں بھی مختلف قسم کی شرمگاہیں پائی جاتی ہیں. تفصیل اس پوسٹ میں پڑھیں

پرانے وقتوں کے بابے تو سب کچھ جانتے تھے لیکن آجکل کے نوجوانوں کو ایسی خاص چیزوں کہ کچھ بھی نہیں پتا ہے جو جدید دور میں رہ رہے ہیں لہذا آج ہم اپنے نوجوانوں کو اس بارے میں ایک ایسی بات بتانے جا رہے ہیں جو کی نسلوں کو معلوم نہیں ہے کہ پکّی شرمگاہ اور کچی شرمگاہ میں کیا فرق ہوتا ہے اور ایسا کیوں ہوتا ہے کیسے ہوتے ہے کب ہوتا ہے.

دوست آج کا نسخہ صرف شادی شدہ لوگوں کے لئے ہے کیوں کہ اس میں بعد میں ساتھ ساتھ کر کے بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ یہ پکی شرمگاہ ہے یا کچی تو چلیں آج اس خاص موضو پر بات کرتے ہیں

جن عورتوں کی شرمگاہ کچی ہوتی ہے جن کی وجہ سے ان کا سوراخ پیچھے کی طرف ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے ان کی شرمگاہ ڈھیلی ہو جاتی ہے .اور ان کو ہاتھ لگاتے ہی ان کا پانی نکل جاتا ہے

جب کے پکی شرمگاہ والی عورت کا سوراخ آگے کی طرف ہوتا ہے اور سخت ہونے کی وجہ سے یہ جلدی فارغ بھی نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کا پانی نکلتا ہے اور سب سے زیادہ مزہ بھی ایسی شرمگاہ والی عورت کے ساتھ سیکس کرنے میں اتا ہے .

ہفتے میں کتنی مرتبہ ہمبستری کرنی چائیے

ہفتے میں کتنی مرتبہ ہمبستری کرنی چائیے ہفتے میں کتنی مرتبہ ہمبستری کرنی چائیے ہفتے میں کتنی مرتبہ ہمبستری کرنی چائیے ہفتے میں کتنی مرتبہ ہمبستری کرنی چائیے ہفتے میں کتنی مرتبہ ہمبستری کرنی چائیے

اس کے متعلق کوی خاص قاعدہ مقرر نہی کیا جا سکتا۔ہر انسان کا مزاج اور قوت مختلف ہوتی ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے۔کہ جوانی میں چند ماہ ایسے بھی اتے ہیں۔کہ جب بار بار صحبت کرنے سے بھی کمزوری کا احساس نہی ہوتا۔بعض لوگ شادی کے چند ماہ یا چند سال برابر روزانہ اور بعض دو تین دفہ بھی یہ حرکت کر گزرتے ہیں۔اور انہیں اس وقت بھی کمزوری محسوس نہی ہوتی۔(ہوتی تو ضرور ہے)۔مگر اس وقت اس کے نتایج محسوس نہی ہوتے۔

اس کے 8 یا 10 سال بعد وہ انتہای کمزوری محسوس کرتے ہیں۔اور اس کے بعد وہ مہینہ میں 2 یا 4 بار ہی اس کی جرت محسوس کر ستے ہیں۔جو لوگ دانش مند ہوں۔وہ اپنی عادات کو ہمیشہ اعتدال پر ڈھالتے ہیں۔اگر شادی کے ابتدائ دنوں میں بھی کم سے کم ہفتہ میں ایک بار یا پھر ہر تیسرے دن تک اس کو شروع رکھیں اور پھر کچھ دن تک اس کو گھٹایا جا سکتا ہے۔اگر ہفتہ میں ایک یا 2 بار تک صحبت کو شروع رکھیں۔تو اس کو 50۔یا 60 سال تک آسانی سے قائم رہ سکتی ہے۔

اور کمزوری کا احساس نہی ہوتا۔جوانی میں کثرت جماع بڑھاپے کے لیے وبال جان بنجاتا ہے۔اور اس وقت انسان پچتاتا ہے۔کہ میں نے جوانی میں یہ بے اعتدال اور کثرت کیوں کی۔

محنت پسند اور زہین ادمی 7 دن میں ایک بار صحبت کرسکتا ہے۔اس سے زیادہ اس کے لیے مضر ہے۔جب بھی اپ صحبت کے بعد کمزوری یا تھکان محسوس کریں ۔تو اپکو سمجھ جانا چاہیے کہ اس عادت کو کم کر دیں۔

پرانے اطباء کے مختلف اقوال ہیں
بقراط کہتا ہے۔

ایک سال میں ایک بار صحبت کرنا کافی ہے۔
جالینوس کہتا ہے۔

6 ماہ میں ایک بار صحبت کرنا کافی ہے۔
بو علی سینا کہتا ہے

جب تک قوت صحیح رہے۔

مختلف اطباء کہتے ہیں۔کہ ایک یا 2 دن کی صحبت کرنے کے بعد 4 دن کا وقفہ ہونا ضروری ہے۔بلغمی مزاج والے کو بہت کم۔اور۔صفراوی مزاج والے کو جلد از جلد اجازت ہے۔اور سوداوی مزاج والے کو ہفتہ میں ایک بار کافی ہے۔
کہتے ہیں

کہ۔60 سال کے بعد ہرگز صحبت نہی کرنی چاہیے۔

اعتدال سب سے بہتر اور کامیاب چیز ہے ۔اپنی طاقت کو جتنا بھی سمبھال کر رکھو گے بڑھاپے میں اتنا ہی اس کا فاعدہ حاصل کرو گے۔جس طرح سے انسان روپیہ پیسہ سمبھال لیتا ہے ۔اور اخر میں دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے محفوظ رہتا ہے۔اس طرح اس طاقت کو بھی سمبھال کر رکھو۔اخر عمر میں اس کی لزتوں سے محروم نہ ہوجاو۔

عورت کے جسم کا وہ نازک حصہ جسکو دباتے ہی عورت تڑپ اٹھتی ہے اور فارغ ہو جاتی ہے

عورت کے جسم کا وہ نازک حصہ جسکو دباتے ہی عورت تڑپ اٹھتی ہے اور فارغ ہو جاتی ہے ………………….عورت کے جسم کا وہ نازک حصہ جسکو دباتے ہی عورت تڑپ اٹھتی ہے اور فارغ ہو جاتی ہے

عورتوں کا ارگیزم (ارضا) حاصل کرنا ایک اہم مسلہ ہے۔ لیکن بہت سے لوگ اس مسلہ کو نہیں سمجھتے۔ جنسی ابھار اور شہوت کے وقت عورتوں کے آلہ تناسل سے پانی کا خارج ہونا قدرتی امر ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہوتی ہے کہ عورت ارگیزم اور شہوت کی انتہاء کو پہنج چکی ہے۔ اسی طرح مرد کے منی کے بغیر عورت کے حاملہ ہونے کا امکان نہیں ہوتا۔

عورت کا ارضا ہونا یا ارگیزم کو پہنچنا شاید ہمارے معاشرے میں انجانا مسلہ ہو۔ اور شاید بہت سی ایسی عورتیں ہو جو کہے کہ عورت کیلئے ارگیزم کیا چیز ہوتی ہے؟ اور کیسے ایک عورت ارضا ہو سکتی ہے؟ آجکل بہت سے ماہرین کا کہنا ہیں کہ جنسی تعلق زندگی کا وہ تعلق ہوتا ہے جو تکرار نہیں رکھتا اور ہر بار شوہر اور بیوی کیلئے نیا ہوتا ہے۔ لیکن اس شرط پر کہ دونوں ارگیزم کو پہنج جائے۔ ایسی حالت میں پھر کبھی بھی جنسی تعلق تکرار نہیں ہوتا۔

جنسی تعلق میں میاں بیوی کا رول مساوی اور ایک جیسا ہونا چاہیئے۔ یہ بات ٹھیک نہیں ہے کہ صرف عورتیں مرد کو ارضا کیلیئے ہوتی ہیں۔ بلکہ دونوں جانب سے جنسی تعلق میں خیال رکھا جانا ضروری ہے کہ ایکدوسرے کو ارضا کریں اور چاہیئے کہ دونوں جانب سے مناسب سیکس ہو۔ اگر ایک جانب سے آرام کے ساتھ سیکس اور دوسری جانب سے سیکس کی خواہش زوروں پر ہو تو ایسی صورت میں جنسی تعلق دونوں کیلئے تسکین کی بجائے نقصان دہ ہے۔ جس کے نتیجے میں ایک تو ارگیزم کو پہنچ جائے لیکن دوسرے کیلئے یہ تعلق سر درد ثابت ہو۔ اسلیئے میاں بیوی دونوں کو چاہیئے کہ ایکدوسرے کے شخصیت کے پہلوؤں کو جانیں تاکہ دونوں احسن جنسی تعلق قائم کر سکیں۔

اگر میاں بیوی اچھا اور مناسب جنسی تعلق استوار کریں تو زندگی میں پیش آنے والے بہت سے مسائل کو خوش اصلوبی سے حل کر سکتے ہیں۔ ایک با حیا عورت جتنے بھی غم سہہ لے اور شرم کی وجہ کچھ نہ کہے لیکن ایسا نامناسب جنسی تعلق اس کی زندگی میں ایک قسم کی تنہائی اور بے چینی پیدا کرتی ہے۔ اسلیئے یہ بات بہت ضروری ہے کہ مرد کی طرح بیوی بھی ارضا یا ارگیزم کو پہنچ جائے۔ لیکن کچھ علامات ہیں جن کی بدولت ہمیں معلوم ہو جائے کہ عورت ارگیزم(لذت کی عروج) کو پہنچ چکی ہے۔۔ اگر درج زیل علامات اس میں پائی جائے تو یہ اس کی دلیل ہے کہ عورت ارضا ہو چکی ہے:

اس کے سینوں کے نپل سخت ہو جائے اور جلدی جلدی سانس لے، احساساتی ہو جائے، بعض اوقات اس قدر حساسی ہو جائے کہ رو پڑے۔ لیکن یہ علامت زیادہ تر مغربی عورتوں میں ظاہر ہوتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں خواتین شرم و حیا کی وجہ سے بہت سی باتیں نہیں کہتی اور یا اپنے احساسات ظاہر نہیں کرتی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بعض عورتوں کو نیند آجائے، یہ بات اکثر مردوں میں پائی جاتی ہیں لیکن عورتیں میں بھی پائی جا سکتی ہیں۔

اسی طرض بعض عورتیں جب ارضا ہو جائے تو انکا دل چاہتا ہے کہ انکا خاوند انھیں گود میں لے لے۔ بعض اس حالت کے بعد ٹھیک طریقے سے راستے پر نہیں چل سکتی، اسلیئے کہ جب وہ ارگیزم کو پہنچ جائے تو ان کے پیر لرزتے ہیں اور یہ بات انکے ارضا کی دلیل ہوتی ہیں۔ اگر میاں بیوی ایکدوسرے کے ساتھ کچھ بے ججک ہو تو ممکن ہے کہ جنسی تعلق کے بعد بھی عورت چاہے کہ اس بارے میں بات کرے یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ارضا ہو گئی ہے۔ اگر کچھ بھی نہ کہے تو ممکن ہے کہ عورت کے چہرے پر رضایت کا ایک تبسم ہو۔ یہ بھی ارضا ہونے کی دلیل ہے

عورت کے شہوت کی تحریک کیلئے اور پھر ارگیزم تک پہنچنے کیلیئے چند مراحل ہوتے ہیں جو درج زیل ہیں:

پہلا مرحلہ ابھارنے کا مرحلہ ہوتا ہے۔ بیوی کی جنسی ابھار کے نتیجے میں جنسی عضو کے گلیٹورس میں خون جمع ہو جاتا ہے اور اس چھوٹے سے عضو کو سخت کر دیتا ہے اور اس کے ساتھ ویجنا یا مھبل سے سیال اور چکنی مادہ خارج کرتا ہے اور ویجنا کا داخلی حصہ اس مادے سے تر ہوتا ہے۔ مھبل کا ورید خون سے بھر جاتا ہے اور اسکا رنگ گہرا سبز ہو جاتا ہے۔ اسی اثنا میں عورت کا نبض اور بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔ جنسی اعضاء گرم اور پھول جاتے ہیں۔ اسطرح عورتوں میں تحریک یا ابھارنے کا مرحلہ دوسرے مرحلے میں جاتا ہے:

اس مرحلہ میں ویجنا کے دیواریں خون سے بھر جاتی ہیں اور اسکے نتیجے میں مھبل کا منہ تنگ ہو جاتا ہے۔ اسے ارگیزم کا پلیٹ فارم بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں کلیٹورس ڈھانپ جاتا ہے، یہ چھوٹا عضو تحریک کا کام کرتا ہے۔ اس مرحلے میں رحم، رحم کی نلکی، اور تخمدانیاں پھولتی ہیں۔ سانس پھول جاتی ہے اس کے ساتھ بنض بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔

تیسرا مرحلہ آرام کا ہوتا ہے اس مرحلے میں ویجنا میں خون کا جمع ہونا کم ہو جاتا ہے۔ نبض پھر سے آہستہ ہو جاتی ہے۔ اور پھولنا کم ہوجاتا ہے۔ ویجنا کا گہرا سبز رنگ دوبارہ اپنی اصلی حالت میں آتا ہے۔ بدن آرام اور سست ہو جاتا ہے، بعض اوقات عورت کے بدن سے پسینے آنے شروع ہو جاتے ہیں۔ اور یہ بات بھی یاد رہے کہ کبھی غیر جنسی اعضاء جیسے سینوں میں تبدیلی نمودار ہوتی ہیں۔ بعض اوقات عورت چاہتی ہے کہ پیشاب کرے، پسینہ زیادہ ہو جاتا ہے، بدن کی گرمی بڑھتی ہے۔ البتہ بعض عورتیں ٹھنڈک کا احساس کرتی ہیں۔ بدن کے بعض حصوں سے پسینہ آنا شروع ہو جاتا ہے۔

ہر عورت اس قابل ہوتی ہے کہ ارگیزم کو پہنچ جائے۔ شاید بہت سی خواتین یہ کہے کہ انھوں نے یہ احساس نہیں پایا ہے۔ ان خواتین کو چاہیئے کہ اسے سیکھے کہ کیسے ارگیزم کو پہنچے۔ صرف تھوڑی سی محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو اس بات کو جان جائے گی کہ خواتین بھی انزال ہوتی ہیں۔ خواتین جب جنسی لذت کے چوٹی کو پہنچ جائے تو انکے مھبل میں کچھ پانی نکلتا ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ عورتیں جنسی تقلقات کے وقت ہر قسم کی شرم کو ایک طرف رکھ کر اچھی زندگی کیلیئے بہتر جنسی تعلقات استوار کریں۔

عورتوں کا ارضا ہونا مردوں کے مقابلے پیچیدا عمل ہے۔ کافی حد تک یہ عمل عورتوں کے روحانی اور عاطفی حالات پر منحصر ہے۔ میاں بیوی کچھ طریقوں کے سیکھنے کے نتیجے میں ایک ساتھ ارگیزم پاسکتے ہیں۔ مردوں میں ارگیزم جسمانی تحاریک اور تعلقات سے واقع ہوتی ہے۔ خواتین میں یہ کام کچھ پیچیدا ہوتا ہے۔ البتہ یہ بات کہ عورت ارگیزم کو نہیں پہنچتی، اس کی وجوہات میں جنسی تعلقات میں عدم دلچسپی، خوف، اور نا مناسب روحانی پریشر یا نامناسب طریقے سے

جنسی مقاربت ہو سکتی ہیں۔ بعض خواتین ایسی بھی ہو سکتی ہیں کہ ہر جنسی مقاربت کے نتیجے میں ارگیزم کو نہ پہنچے چاہے اس کی خواہش بھی ہو کہ اپنے خاوند کے ساتھ ایک جنسی مقاربت میں کئی ارگیزم کو پہنچ جائے۔ البتہ وہی بات پھر دہرا رہے ہیں کہ مرد اور عورتوں کے ارگیزم میں فرق ہوتا ہے۔ عورتوں میں محض جنسی لذت کو ارگیزم نہیں کہہ سکتے۔ عورتوں کے عاطفی حالات جنسی تعلقات کے وقت بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر ان عاطفی خواہشات کو توجہ دی جائے تو لذت اور خوشیوں سے بھری زندگی ہوگی۔

نیچھے ہم وہ باتیں زکر کر رہے ہیں کہ جس میں عورت ارگیزم کو پہنچے اور جنسی تعلقات کے نتیجے میں میاں بیوی دونوں ایک جیسی لذت حاصل کریں:

سب سے اہم بات یہ ہے کہ مرد کو چاہیئے کہ بیوی کی مکمل تحریک سے پہلے جنسی مقاربت یا جماع (دخول) نہ کریں یعنی اس وقت تک دخول نہ کرے جب تک بیوی ارگیزم کو نہ پہنچی ہو۔ جنسی اور روحانی تعلقات کے زریعے سے اپنے آپکو جنسی تعلق کے لئے تیار کریں۔ اگر سیکس پر توجہ مرکوز رہے تو یہ جنسی ابھار میں مدد دیتا ہے۔ اگر انھی خیالات کے ساتھ جوشیلی محبت اور جنسی تعلق قائم کریں تو بہت جلد ارضا ہو جائے گے۔ سب سے اہم بات یہ کہ بیوی مطمئن اور ہر خوف سے پاک ہو۔ یہ روحانی دباؤ جنسی لذت کو کم کرتی ہیں۔ لہذا جنسی تعلقات کے وقت اگر آرام طلب ہو تو چاہیئے کہ اس سے پہلے گرم پانی سے نہایا جائے

یا مطالعہ کرے یا ہر وہ کام جو آپ کو آرام اور ریلکس کریں اس کے بعد جنسی مقاربت بہت لذت بھری ہوتی ہے۔ وہ چیزیں جو آپ کے پریشانی کا بعث بنتی ہیں انھیں دور کریں۔ بعض عورتیں جب اپنے شوہر کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرتی ہیں تو دوسرے چیزوں کے بارے میں سوچتی ہیں جیسے گھر کے کام کاج، بچوں کے مسائل، کمرے کی زیادہ روشنی اور شوہر سے حیا، ساس سے جھگڑے، گھر کی آمدن وغیرہ جیسے خیالات آپکو اچھے تعلقات سے دور کرتی ہیں۔

چند منٹ کیلئے یہ افکار و خیالات اپنے زہین سے نکالے اور محض جنسی تعلقات کی لذت حاصل کریں۔ اس کے بعد یہ صحیح جنسی تعلق آپکے اعصاب کو ایک خاص سکون اور راحت پہنچاتی ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ آپکی قوت مدافعت اور قوت برداشت بھی ناخوشگوار کاموں کے بارے میں بڑھاتی ہے۔ عصبانیت کو آپ سے دور کرتی ہے۔ اچھے جنسی تعلق کے لئے ضروری ہے کہ اس سے پہلے اپنے ساتھی سے دل سے پیار و محبت کریں۔ اس کے بغیر جنسی تعلق لذت نہیں دیتی۔ جنسی مقاربت کے دوران بیوی کو چاہیئے کہ وہ اپنی فکر شہوانی کرے۔ صرف ان امور پر توجہ دے جو اسکا شوہر انجام دے دہا ہے۔

بہتر ہے شوہر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھے اور صرف جنسی مقاربت پر کفایت نہ کرے کہ اپنی بیوی کو ارضا کرنا ہے، بہتر ہے کہ ہاتھ پھیرنے، بوس و کنار اور دوسرے زرائع سے بھی استعفادہ کرے تاکہ بیوی بھی لذت کے عروج کو پہنچ جائے۔ بہت سے میاں بیوی ایسے وقت میں جنسی مقاربت کرتے ہیں کہ جب جسم کو نیند کی سخت ضرورت ہوتی ہیں اور جنسی روابط کے زریعے سے لذت حاصل نہیں کر سکتے۔

تو بہتر ہے کہ تھوڑا جلدی پہلا پیار و محبت اور بوس و کنار ہو جائے اور اسکے بعد جب بیوی تیار ہو جائے جنسی تعلق قائم کرنا چاہیئے۔ شرم و حیا کو ایک طرف رکھ کر اپنے جسم پر حاکم بنے اور دیکھے کہ آپکے شوہر کی کونسی حرکت آپکے جنسی ابھار کو زیادہ متحرک کرتی ہے۔ پھر اس سے کہے کہ وہی عمل جاری رکھے۔ شوہر کے ساتھ بے باک اور جنسی باتیں کرے۔ اسلام کی طرف سے بھی آپکو اجازت ہے۔ پست آواز میں بات کرے۔ اگر اور کچھ نہ ہو تو اشاروں کی مدد سے اپنے شوہر کو سمجھائے کہ کونسی حرکت لذت والی ہے۔

جب بیوی اپنے شوہر کے ساتھ جنسی باتیں کرتی ہے، اس دوران شوہر کو بتا سکتی ہے کہ کون سا عمل اسے متحرک کر سکتی ہے۔ اسکے ساتھ اپنے اعضاء کو منقبض اور سخت کرے اور جتنا ہو سکے اپنے عضلات کا دباؤ بڑھائے۔ پھر جب اپنے شوہر کے ساتھ پیار کرتی ہے تو ایسے میں اس کی جنسی تمایل بڑھتی ہے، اپنی سانس مختلف انواع میں لے، جب آپکا شوہر آپکا جسم چھوتا ہے تو آپ بھی اس کے ساتھ مدد کرے یعنی آپ بھی اپنے بدن پر ہاتھ پھیرے اور ارگیزم کو پہنچنے کی مشق کرے۔ اسکے ساتھ کھانے کی چیزوں کو بھی بروئے کار لائے جیسے کھجور اور دودھ، اس میں شوہر کیلئے بڑی طاقت ہے، انڈے،سلاد پتہ, پیاز، گاجر، انجیر، آپ اور آپکے شوہر کے ساتھ تعاون کرتی ہیں

یہ اعمال آپ کیلیئے مفید ثابت ہو سکتی ہیں تاکہ شوہر سے ایک ساتھ ارگیزم کو پہنچ جائے۔

اگر یہ مضمون کسی طور پر ناگوار معلوم ہو تو ہم معذرت چاہتے ہیں لیکن اس میں اسلیئے صاف باتیں کی ہیں کیونکہ اکثر لوگ ان مسائل کو نہیں سمجھتے اور نہ ہی کوئی ایسا زریعہ ہوتا ہے کہ جس سے لوگ رہنمائی حاصل کریں۔ ہم لوگ صرف آپکے علم کے لیے یہ باتیں شئیر کرتے ہیں. شکریہ

میرا شوہر کچھ کر نہیں سکتا تھا تو میں نے جیٹھ کو اکیلے میں کہا مجھے ایک بچہ چاہیے اور پھر

میرا شوہر کچھ کر نہیں سکتا تھا تو میں نے جیٹھ کو اکیلے میں کہا مجھے ایک بچہ چاہیے اور پھر میرا شوہر کچھ کر نہیں سکتا تھا تو میں نے جیٹھ کو اکیلے میں کہا مجھے ایک بچہ چاہیے اور پھر

اسلام علیکم !محترم بھائیواور بہنو یہ کہانی حقیت پر مبنی ہے اس میں جتنے بھی کردار ہیں وہ فرضی ناموں پر رکھے گئے ہیں تاکہ جس کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا ہے اس کی عزت محفوظ رہئ اور اس پر کوئی حرف نہ اٹھا سکے اس کہانی کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم اس سے سبق حاصل کریں اور عورت پر جو ظلم ہمارے معاشرے میں رشتوں کی چکی میں پیس کر کیا جا رہا ہئ وہ نہ کیا جاسکے اس کے حقوق میں اس کی پاماکی نہ ہو اسے ایسی ہی عزت دی جانی چاہیے جیسی عزت ہم اپنی بہنوں بیٹیوں کے لیے ان کے سسرال میں طلب کرتے ہیں اسے ان کاموں پر مجبور نہ کیا جائے جو اس کے بس میں نہیں ہوتے ورنہ وہ بھی ایسا قدم اٹھا سکتی ہے جیسا اس عورت نے اٹھایا یہ کہانی اسی کی زبانی سینے۔

اس روز میرے شوہر نے مجھے بہت بے دردسمارا پیٹا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ میری ساس نے میرے شوہر کو میرے خلاف اکسایا تھا کہ یہ عورت پیدائشی بانجھ ہے اور اس عورت سے اولاد نہیں ہونی اس کو چھوڑ اور کسی دوسری عورت سے شادی کر لے میری ساس کی انہی باتوں کی وجہ سے میرا شوہر بات نے بات مجھے ڈانٹتا رہتا اوراس روز تو اس نے حد ہی کر دی مجھے مارنے پیٹنے کے بعد بھی سکون نہ ہوا تو مجھے کہنے لگا کہ اگر تم ماں نہ بن سکی تو میں تمیں چھوڑ دوں گا اور کسی دوسری عورت سے شادی کر لوں گا میرا جیٹھ شوہر کا بڑا بھائی پاس ہی کھڑا تھا اور سارا منظر دیکھ رہا تھا اس سے رہا نہ گیا تو اس نے میرے شوہر کو برا بھال کہنا شروع کردیا اس پر میری ساس نے اسے بھی برا بھلا کہنا شروع کر دیا میرا جیٹھ عمر میں مجھ سے کافی بڑا تھا۔

لیکن اس کی شخصیت میرے شوہر سے بلکل مختلف تھی دراصل پہلے پہلی تو یرے شوہر کا رویہ بھی میرے ساتھ بہت اچھا تھا لیکن شادی کے چار سال گزرنے کے بعد بھی جب کوئی بچہ ہیدا نہ ہوا تو اس کا رویہ میرے ساتھ بدلنے لگا تھا میں نے اپنی ساس اور شوہر کے طعنوں سے تنگ آکر اپنا علاج بھی کروایا لیکن خرابی میرے شوہر میں تھی

اور وہ اس بات کو ماننے کے لئے تیار ہی نہیں تھا اس روز میں نے تہیہ کرلیا کر ماں بنبے کے لیے میں کچھ بھی کروں گی اگلے دن ہی میں گھر پر کسی کو نہ پاکر کراپنے جیٹھ کے کمرے میں چلی گئی جو کہ اپنی بیوی کی وفات کے بعد اپنی چند ماہ کی بیٹی کے ساتھ اکیلا رہتا تھاکاکی کیا بات ہے میرا جیٹھ میری طرف دیکھ کر بولا میں نے اس کے سامنے جا کر اپنی چادر اتاردی اور اس کے پیروں میں رکھتے ہوئے بولی جیٹھ جی مجھے بچہ چاہیے کچھ بھی کرکے مجھے بچہ دلوادو ورنہ میرا گھر برباد ہوجائے گا اب میں اور مار نہیں کھا سکتی۔

اور نہ یہ دکھ برداشت کرسکتی ہوں کہ وہ مجھے چھوڑ کر کسی اور کا ہوجائے یہ کہہ کر میں آگے بڑھی ار جیٹھ کے قریب جاکر کھڑی ہوگئی میرے جیٹھ نے میری ساری بات سمجھ لی تھی وہ پیچھے ہٹتے ہوئے بولا نہیں کاکی یہ ساب غلط ہے میں ایسا نہیں کرسکتا میں نے کہا توٹھیک ہے پھر جب تمہارا بھائی مجھے پیٹتے پیٹتے ماردے گا یا مجھے چھوڑ دے گا

تو تم میری بے بسی دیکھ کر کڑتے رہنا اور مجھے مرتا ہوئے دیکھتے رہنا یہ کہہ کر میں واپس مڑنے لگی تھی کہ اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور مجھے اپنی طرف کھینچ لیا اور میں چپ چاپ اس کے سامنے بچھ گئی تھی اور اس وقت اپنا گھر بچانے کے لیے میں اور کرتی تھی تو کیا خیر امید برآئی بھی اور کچھ ہی دنوں بعد میں نے اپنے شوہر کو خوش خبری دی کہ اب میں ماں بنے والی ہوں۔

اور اس خبر پر وہ ایسے خوش ہوا جیسے کس قاتل کی سزائے موت معاف ہونے پر وہ خوش ہوتا ہے اور میں اپنے شوہر کی خوشی دیکھ کر خوش تھی اب اس نے پھر سے میرے نخرے اٹھانے شروع کردیے تھے مجھے کسی کام کو ہاتھ نہ لگانے دیتا کہ کہیں کوئی مسئلہ نہ بن جائے اور ہر وقت میری خاطر مدارت میں مصروف رہتا میری ساس جو میری سب سے بڑی دشمن بن بیٹھی تھی وہ بھی اب مجھ سے خوش تھی پھر ہمارے گھر ایک چاند سا بیٹا پیدا ہوا اور میرے شوہر ے پورے گائوں میں مٹھایاں بانٹیں لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ وہ اس کا بیٹا نہیں تھا میں چپ رہی اور میں نے ساری زندگی چپ ہی رہنا تھا اگر وہ واقع پیش نہ آتا

جن مجھے اپنے شوہر کو سب کچھ سچ سچ بتانا پڑا دراصل ہوایوں کہ میرا بیٹا اپنے باپ کا بہت ہی لاڈا تھا اس کی سےزبان سے بات نکلنے سے پہلے ہی اس کا باپ اس کی بات پوری کردیتا تھا اور کیوں نہ کرتا وہ ہماری اکلوتی اولاد تھا اس وقت میرا بیٹا لڑکپن میں تھا جن اس نے دل ہی دل میں میرے جیٹھ کی بیٹی جو کہ عمرمیں اس سے بڑی تھی کو پسند کرلیا تھا ناجانے کب ان دونوں نے آپس میں محبت کی پینگیں بڑھا لیں میرا جیٹھ تو فوت ہوچکا تھا۔

لیکن اس کی بیٹی کی ذمہ داری میری ساس نے اپنی ذمہ لے لی تھی جب مجھے اس بات کا علم ہوا تو اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی میں نے اپنے بیٹے کو سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن اس نے میری بات ماننے سے صاف انکار کر دیا تھا اور وہ کہتا بھی ٹھیک ہی تھا کہ اگر اس کی شادی اس کے تایا کی بیٹی سے ہوجائے تو حرج ہی کیا ہے لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ بھی اپنے تیا کا ہی بیٹا تھا اور اسی حساب سے وہ دونوں بہیں بھائی تھے یں نے اپنے شوہر سے بات کرنے کی کوشش کی کہ بیٹے

کے لیے کوئی اور رشتی ڈھونڈلیتے ہیں اس نے بھی یہ کہہ کر صاف انکار کردیا تھا کہ کبھی سوچنا بھی مت لڑکی گھر میں موجود ہے اور ان دونوں کی شادی سے گھر میں ہی رہ جائے گی کیونکہ اس کے ماں باپ تو اس دنیا میں ہیں نہیں اس لیے سب سے مناسب یہی ہے کہ ہم اپنے بیٹے کی شادی اس کے ساتھ کردیں میں نے اس شادی کو رکوانے کے لیے جو کرسکتی تھی کیا لیکن جب سب اس شادی پر راضی تھے۔

تو میں اکیلی کیا کرسکتی تھی لیکن کسی صورت بھی میں یہ شادی ہونے نہیں دے سکتی تھی کیونکہ گناہ تو میں نے پہلے کرلیا تھا جو اولا د کی خاطر اپنے جیٹھ کے پاس چلی گئی تھی لیکن اب میں دوسرا گناہ ہونے دے سکتی تھی جس روز ان دونوں کی منگنی ہونے والی تھی چاررونا چار میں نے اپنے شوہر کو تمام واقعہ سچ سچ بتا دیا کہ کسی طرح میں نے اس کی مار پیٹ اورساس کے طعنوں سے تنگ آکر اس کے بھائی کو اس گناہ پر مجبور کیا تھا میرا شوہر جو کہ میری ساری بات سن کر ساکت ہی ہوگیا تھا کافی دیر تک خاموش بیٹھا رہا میں اس کے سامنے سرجھکائے اپنی سزا کی منتظر بیٹھی رہی کہ اپنے گناہ کی پاداش میں

مجھے جو بھی سزا سنائی دئ گا میں ہنس کر قبول کر لوں گی لیکن بہیں بھائی کی شادی کروانے کا گناہ میں نہیں کرسکتی تھی کافی دیر گزرنے کے بعد میں نے نظریں اٹھا کر اپنے شوہر کو دیکھا تو اسے دیکھ کر میں ایک دم ٹھٹھک کر رہی گئی دراصل میں یہ شوچ رہی تھی کہ اب کے اب مجھے کیا سزا ملتی ہے ہوسکتا ہے کہ یہ میری زندگی کا آخری دن ہو کیونہ میں نے اپنےشوہر کی پیٹھ پیچھے ہی
بڑا گناہ کای تھا اور میں جانتی تھی کہ کوئی بھی مرد یہ بات برداشت نہیں کرسکتا لیکن میرا شوہر اپنی آنکھوں مین آنسو بھرے میرے سامنے اپنے دونوں ہاتھ جوڑے بیٹھا تھا وہ میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں بولا سکینہ میں تمہارا بہت بڑا گناہ گار ہوں مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میں تم سے کس طرح معافی مانگوں۔

اگر میں اس وقت تمہیں مجبور نہ کرتا تو تم یہ گناہ کبھی نہ کرتیں لیکن مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ تم نے اس بات کو چھپانے کے بجائے کھل کر مجھے بتادی ہے اور ہم دونوں ایک بہت ہی بڑے گناہ سے بچ گئے ہیں ہو سکے تو مجھے معاف کردو کیونکہ میں نے تمہیں بہت دکھ دیا ہے اپنے شوہر کی یہ باتیں سن کر میں بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی

اور میں ے روروکر اپنے شوہر سے اپنے گناہ کی معافی مانگی پھر ہم دونوں نے مل کر اپنے بیٹے اور بھیتجی کے لیے رشتہ تلاش کرنا شروع کر دیا میری ساس اس بات پر سخت ناراض ہے لیکن یہ بات میں اور میرا شوہر ہی جانتے ہیں کہ اپنے بیٹے اور بھتیجی کا رشتہ ہم کیوں نہیں کرسکتے مجبوری میں کئے گئے اپنے گناہ کی میں رات دن اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتی ہوں شاید میرا رب مجھے معاف کردے

مرد کے جسم کا ایسا حصہ جس پر عورت مر مٹتی ہے

مرد کے جسم کا ایسا حصہ جس پر عورت مر مٹتی ہے مرد کے جسم کا ایسا حصہ جس پر عورت مر مٹتی ہے مرد کے جسم کا ایسا حصہ جس پر عورت مر مٹتی ہے مرد کے جسم کا ایسا حصہ جس پر عورت مر مٹتی ہے

دوستو عورتوں کی طرح مردوں کے بھی کچھ ایسے حصے ہوتے ہیں جو عورتوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں اور ان کا ایسا عورتوں پر اثر پڑتا ہے کہ عورتیں مرد کی دیوانی ہو جاتی ہیں اور اپنا سب کچھ اس مرد پر نثار کر دیتی ہیں کیوں کہ ان میں مرد بہت ہی اچھے اور پر کشش لگتے ہیں تو آج میں آپ لوگوں کو مردوں کے ایسے سب حصوں کے بارے میں بتاؤں گا جس پر عورتیں مر مٹتی ہیں .

1 : پرکشش کندھے
دوستو عورتوں کو مردوں کے اونچے اور پرکشش کندھے دیکھتے ہی ان پر پیار آتا ہے اور عورتیں مرد پر مر مٹتی ہیں اور عورت کی اگر کسی بھی مرد پر نظر پڑتی ہے تو سب سے پہلے اس کے کندھوں کو نوٹس کرتی ہیں .

2:خوبصورت سینہ
عورتوں کو چوڑے سینے والے مرد بھی بہت ہی اچھے لگاتے ہیں کیوں کہ زیادہ یا کم قد کے ساتھ اگر چیسٹ اچھی خوبصورت اور بڑی ہو تو مرد کے اندر ایک الگ ہی خوبصورتی ہوتی ہے جس کے بعد کوئی بھی عورت اس مرد کی دیوانی ہو جاتی ہے .

3 : ہونٹ اور زبان
جس طرح مردوں کو عورتوں کے ہونٹ پسند ہوتے ہیں اسی طرح ہی عورتوں کو بھی مردوں کے خوبصورت ہونٹ پسند ہوتے ہیں جو کہ سیکس کرنے سے پہلے فور پلے میں بہت کام اتے ہیں اور اس طرح مرد اور عورت جنسی تسکین سے پوری طرح مالامال ہو جاتے ہیں اور اپنی زندگی کے ہر سیکس کو کامیاب اور پہلے سے حسین بنا تے ہیں

4:کمر پر بنی v لائن
دوستو اس میں لڑکیوں کو مردوں کی پتلی کمر زیادہ پسند آتی ہے جو زیادہ موٹی نہیں ہونی چاہے درمیانی ہو گی تو چلے گی دوستو عورتیں مردوں سے بھی زیادہ نخرالی ہوتی ہے اس لئے ان کو مرد بہت مشکل سے ہی پسند آتے ہیں

دوستو عورتوں کی طرح مردوں کے بھی کچھ ایسے حصے ہوتے ہیں جو عورتوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں اور ان کا ایسا عورتوں پر اثر پڑتا ہے کہ عورتیں مرد کی دیوانی ہو جاتی ہیں اور اپنا سب کچھ اس مرد پر نثار کر دیتی ہیں کیوں کہ ان میں مرد بہت ہی اچھے اور پر کشش لگتے ہیں تو آج میں آپ لوگوں کو مردوں کے ایسے سب حصوں کے بارے میں بتاؤں گا جس پر عورتیں مر مٹتی ہیں .

1 : پرکشش کندھے
دوستو عورتوں کو مردوں کے اونچے اور پرکشش کندھے دیکھتے ہی ان پر پیار آتا ہے اور عورتیں مرد پر مر مٹتی ہیں اور عورت کی اگر کسی بھی مرد پر نظر پڑتی ہے تو سب سے پہلے اس کے کندھوں کو نوٹس کرتی ہیں .

2:خوبصورت سینہ
عورتوں کو چوڑے سینے والے مرد بھی بہت ہی اچھے لگاتے ہیں کیوں کہ زیادہ یا کم قد کے ساتھ اگر چیسٹ اچھی خوبصورت اور بڑی ہو تو مرد کے اندر ایک الگ ہی خوبصورتی ہوتی ہے جس کے بعد کوئی بھی عورت اس مرد کی دیوانی ہو جاتی ہے .

3 : ہونٹ اور زبان
جس طرح مردوں کو عورتوں کے ہونٹ پسند ہوتے ہیں اسی طرح ہی عورتوں کو بھی مردوں کے خوبصورت ہونٹ پسند ہوتے ہیں جو کہ سیکس کرنے سے پہلے فور پلے میں بہت کام اتے ہیں اور اس طرح مرد اور عورت جنسی تسکین سے پوری طرح مالامال ہو جاتے ہیں اور اپنی زندگی کے ہر سیکس کو کامیاب اور پہلے سے حسین بنا تے ہیں

4:کمر پر بنی v لائن
دوستو اس میں لڑکیوں کو مردوں کی پتلی کمر زیادہ پسند آتی ہے جو زیادہ موٹی نہیں ہونی چاہے درمیانی ہو گی تو چلے گی دوستو عورتیں مردوں سے بھی زیادہ نخرالی ہوتی ہے اس لئے ان کو مرد بہت مشکل سے ہی پسند آتے ہیں

عورتیں کب جنسی عمل کی طلب محسوس کرتی ہیں؟ سائنسی اور علمی تحقیق نے شوہروں کو پریشان کردیا

عورتیں کب جنسی عمل کی طلب محسوس کرتی ہیں؟ سائنسی اور علمی تحقیق نے شوہروں کو پریشان کردیا عورتیں کب جنسی عمل کی طلب محسوس کرتی ہیں؟ سائنسی اور علمی تحقیق نے شوہروں کو پریشان کردیا

ایک حالیہ سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بہت سی خواتین اپنی قدرتی جنسی خواہش کے مطابق جسمانی قربت سے لطف اٹھانے سے محروم ہیں. اور اس کی ایک بڑی وجہ عورتوں پرمختلف حوالوں سے ذہنی دباﺅہے.

نوعمر لڑکے لڑکیاں ایک گھنٹے میں کتنی مرتبہ جنسی عمل کے بارے میں سوچتے ہیں؟جدید تحقیق میں سائنسدانوں نے جواب دے دیا جسے جان کر تمام ماں باپ کے ہوش اڑ جایں گے کیونکہ۔۔

قدیم زمانوں سے سمجھا جاتا رہا ہے کہ عورتوں میں مردوں کی نسبت کم جنسی خواہش پائی جاتی ہے. تاہم تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ تاثر درست نہیں ہے بلکہ بیشتر خواتین ہفتے میں چھ بار جسمانی قربت کی خواہش رکھتی ہیں. اس خواہش کو دبانے میں محض معاشرتی دباﺅ ہی کو دخل نہیں بلکہ عورتوں کو روزمرہ کام کاج کے حوالے سے بھی دباﺅ کا سامنا پڑتا ہے اس کے باعث وہ اپنی فطری خواہشات کی تکمیل میں ناآسودہ رہ جاتی ہیں. افزائش کے بارے میں آگہی کے ادارے کنڈارا نے پانچ سو خواتین سے ان کی نجی

خواہشات کے بارے میں سروے کیا ہے. اس تحقیق کا مقصد نسوانی جنسی خواہشات کے بارے میں مختلف عوامل کی نشاندہی کرنا تھا- تحقیق کے مطابق 75 فیصد خواتین نے بتایا کہ انہیں ایک ہفتے میں تین سے زیادہ دفعہ جنسی خواہش محسوس ہوتی ہے. تیرہ فیصد کا کہنا تھا کہ وہ ہفتے میں چھ بار قربت کی خواہش رکھتی ہیں.

سروے میں شریک ستر فیصد خواتین کا کہنا تھا کہ وہ جسمانی قربت کے ہر تجربے میں آسودگی کی منزل کو پہنچتی ہیں. تاہم سروے میں شامل خواتین کی اکثریت نے بتایا کہ جسمانی آسودگی اور جذباتی کیفیت میں گہرا تعلق پایا جاتا ہے. ڈیلی میل کے مطابق تقریباً 23 فیصد خواتین نے کہا کہ ان کی تسکین کے لیے کسی خاص ذہنی کیفیت کی بجائے جسمانی قربت سے پہلے

لطیف لمحات زیادہ اہمیت رکھتے ہیں. ڈیلی میل کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر خواتین عمومی زندگی میں اپنے شریک حیات سے مطمئن نہ ہوں تو ان کی جسمانی آسودگی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں. اسی طرح جو خواتین اپنی جسمانی خصوصیات اور خدوخال کے بارے میں عدم تحفظ کا شکار ہیں ان کی خلوت بھی ناخوشگوار ہو جاتی ہے.

قبل ازیں مشی گن یونیورسٹی کی ایک تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ مردوںکی طرح خواتین کو بھی عارضی جسمانی تعلق میں کشش محسوس ہوتی ہے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ اس ضمن میں معاشرتی تعصبات کو ختم کیا جا سکے. مشی گن یونیورسٹی میں نفسیات اور ویمن سٹڈیز کی استاد ٹیری کونلی کا کہنا ے

کہ عورتوں کی نجی خواہشات کےبارے میں حالیہ تحقیق سے کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی . ان کا یہ کہناہے کہ یہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ عورتوں اور مردوں کی جنسی خواہش میں کیفیت اور تعداد کے اعتبار سے کوئی بنیادی فرق نہیں ہے

جب مرد یہ کام کرتا ہے توعورت کو بہت مزہ آتا ہے

جب مرد یہ کام کرتا ہے توعورت کو بہت مزہ آتا ہے جب مرد یہ کام کرتا ہے توعورت کو بہت مزہ آتا ہے جب مرد یہ کام کرتا ہے توعورت کو بہت مزہ آتا ہے جب مرد یہ کام کرتا ہے توعورت کو بہت مزہ آتا ہے

دوستو آج مجھے ایک سوال ملا ہے جس میں ایک بھائی نے پوچھا ہے کہ لڑکی کو آگے سے پسند ہوتا ہے کہ پیچھے سے تو میں نے سوچا کہ اس بارے بھی لکھ دیتے ہیں۔ دوستو عام طور پر لڑکیوں کو آگے سے کام کروانا پسند آتا ہے اور اس کی ایک وجہ ہے۔ جب مرد آگے سے نفس ڈالتا ہے تو عورت کو تکلیف کم ہوتی ہے اور مزہ زیادہ آتا ہے کیونکہ عورت کی اگلی شرمگاہ میں پانی آ جاتا ہے اور رگڑ کم ہونی کی وجہ سے نفس آگے پیچھے باآسانی ہو جاتا ہے اور عورت کو تکلیف کم ہونے کی وجہ سے زیادہ مزہ ادھر آتا ہے۔

دوستو عورت کو مزہ پیچھے سے بھی آتا ہے لیکن تکلیف بہت زیادہ ہوتی ہو کیونکہ پچھلی چگہ میں فرج کی طرح پانی نہیں نکلتا اور کام سوکھا ہوتا ہے جس کی وجہ سے نفس رگڑ زیادہ کھاتا ہے تو عورت کو تکلیف بے پناہ ہوتی ہے۔ جس مرد کا نفس فربہ اور موٹا ہو اس سے تو عورت دور بھاگتی ہے اور عورت کی کوشش ہوتی ہے کہ مرد آگے سے ہی کرے کیونکہ پیچھے ڈالے گا تو موٹا نفس اس کی تباہی بلا دے گا۔

دوستو کئی عورتیں ہوتی ہیں جو اتنی تکلیف برداشت کر لیتی ہیں تو پھر انکو زیادہ مزہ پیچھے سے آتا ہے۔ اور میں آج آپکو طریقہ بھی بتاتا ہوں کہ کیسے پتا چلے گا کہ عورت کے پیچھے سے پسند ہے کہ آگے سے۔ دوستو آپ عورت کے پستان چوستے رہیں اور جب آپ کو لگے کہ عورت گرم ہو گئی ہے تو آپ پہلی دفعہ میں

ایک انگلی عورت کی فرج یعنی پھدی میں ڈالیں اور عورت کی شکل دیکھیں کہ کیسا منہ بناتی ہے اور پھر ایک دو منٹ بعد آپ عورت کی گانڈ میں انگلی ڈال دیں اور دیکھیں کہ منہ کیسے بناتی ہے اور پھر آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ عورت کا زیادہ دل کس طرف ہے۔ دوستو یہ تو تھا آج کا موضوع اُمید ہے آپکو پسند آیا ہو گا۔

دوستو عورت کے ساتھ سیکس کرتے وقت جس ٹائم آپ عورت کی فرج میں ڈال کر جھٹکے مار رہے ہوتے ہیں تو اس وقت ساتھ ساتھ عورت کی فرج میں اپنی انگلی کو تیزی سے ماریں گئیں تو اس سے عورت تڑپ اٹھے گی اور ایک یا زیادہ سے زیادہ دو منٹ میں فارغ ہو جائے گی اور آپ کی ٹائمنگ میں اس سے اضافہ ہو جائے گا جس سے عورت آپ کی غلام بن کر رہے گی یقین نہیں توخود آزما لیں